بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
رمضان ایک مبارک مہینہ ہے۔
ہم تمام کو چاہئے کہ اس مبارک مہینے میں ۔۔۔
٭ تمام عبادتوں کے بجا لانے میں خوب محنت اور شوق سے حصہ لیں ۔
٭ زیادہ سے زیادہ نفل نماز ادا کریں ۔
٭ غور و تدبر کے ساتھ قرآن مجید کی زیادہ سے زیادہ تلاوت کریں۔
٭ زیادہ سے زیادہ تسبیح و تہلیل ، تحمید و تکبیر اور استغفار پڑھیں ۔
٭ خوب خوب دعائیں کریں ۔
٭ نیکی کا حکم دیں ، برائی سے منع کریں ۔
٭ دعوت الی اللہ کا زیادہ سے زیادہ کام کریں ۔
٭ فقیروں اور مسکینوں کی مدد کریں ۔
٭ والدین کے ساتھ حسنِ سلوک
رشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی
پڑوسیوں کی عزت افزائی
بیماروں کی بیمار پرسی ۔۔۔
اور اسی طرح نیکی کے دیگر کاموں میں خوب بڑھ چڑھ کر حصہ لیں ۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادِ گرامی ہے ؛
اللہ تعالیٰ دیکھنا چاہتا ہے کہ تم میں نیکی کا کس قدر جذبہ اور شوق ہے ، وہ تمہاری وجہ سے فرشتوں کے سامنے فخر کرتا ہے ، لہذا یاد رکھو کہ وہ شخص انتہائی بد بخت ہے جو اِس ماہ میں بھی اللہ تعالیٰ کی رحمت سے محروم رہا ۔
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
رمضان ایک مبارک مہینہ ہے۔
اس مہینے کے دامن میں وہ بیش بہا رات ہے ، جو ہزاروں مہینوں سے بڑھ کر خیر و برکت والی ہے۔
اسی رات میں ہمارے رب نے اپنی سب سے بڑی رحمت ہمارے اوپر نازل فرمائی۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے ؛
٭ ہم نے اسے (کتابِ مبین کو) برکت والی رات میں اتارا۔
۔(سورۃ الدخان ۔ آیت: ٣)۔
اس ماہ کا ہر روز ، روزِ سعید ہے اور ہر شب، شبِ مبارک ۔
٭ اس کی ہر گھڑی میں فیض و برکت کا اتنا خزانہ پوشیدہ ہے کہ نفل اعمالِ صالحہ ، فرض اعمالِ صالحہ کے درجے کو پہنچ جاتے ہیں، اور فرائض ستّر (٧٠) گُنا زیادہ وزنی اور بلند ہو جاتے ہیں۔
۔(سنن بیہقی ؛ سلمان فارسی رضی اللہ عنہ)۔
٭ رمضان آتا ہے تو آسمان کے دروازے کھول دئے جاتے ہیں اور رحمتوں کی بارش ہوتی ہے۔ جنت کے دروازے کھول دئے جاتے ہیں اور نیکی کے راستوں پر چلنے کی سہولت اور توفیق عام ہو جاتی ہے۔ جہنم کے دروازے بند کر دئے جاتے ہیں اور روزہ بدی کے راستوں کی رکاوٹ بن جاتا ہے۔ شیطان کو زنجیروں میں جکڑ دیا جاتا ہے اور برائی پھیلانے کے مواقع کم سے کم ہو جاتے ہیں۔
۔(بخاری ، مسلم ؛ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ)۔
٭ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے ؛
جو شخص رمضان المبارک میں روزے رکھے اس کے سارے اگلے پچھلے گناہ بخش دئے جائیں گے۔ اور جو شخص راتوں میں نماز کے لئے کھڑا رہے ، اس کے بھی گناہ بخش دئے جائیں گے اور وہ ، جو شبِ قدر میں قیام کرے ، اس کے بھی۔ بس شرط یہ ہے کہ وہ اپنے رب کی باتوں اور وعدوں کو سچا جانے ، اپنے عہدِ بندگی کو وفاداری بشرطِ استواری کے ساتھ نباہے اور خود آگہی و خود احتسابی سے غافل نہ ہو۔
۔(بخاری ، مسلم ؛ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ)۔
رمضان ایک مبارک مہینہ ہے۔
اس مہینے کے دامن میں وہ بیش بہا رات ہے ، جو ہزاروں مہینوں سے بڑھ کر خیر و برکت والی ہے۔
اسی رات میں ہمارے رب نے اپنی سب سے بڑی رحمت ہمارے اوپر نازل فرمائی۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے ؛
٭ ہم نے اسے (کتابِ مبین کو) برکت والی رات میں اتارا۔
۔(سورۃ الدخان ۔ آیت: ٣)۔
اس ماہ کا ہر روز ، روزِ سعید ہے اور ہر شب، شبِ مبارک ۔
٭ اس کی ہر گھڑی میں فیض و برکت کا اتنا خزانہ پوشیدہ ہے کہ نفل اعمالِ صالحہ ، فرض اعمالِ صالحہ کے درجے کو پہنچ جاتے ہیں، اور فرائض ستّر (٧٠) گُنا زیادہ وزنی اور بلند ہو جاتے ہیں۔
۔(سنن بیہقی ؛ سلمان فارسی رضی اللہ عنہ)۔
٭ رمضان آتا ہے تو آسمان کے دروازے کھول دئے جاتے ہیں اور رحمتوں کی بارش ہوتی ہے۔ جنت کے دروازے کھول دئے جاتے ہیں اور نیکی کے راستوں پر چلنے کی سہولت اور توفیق عام ہو جاتی ہے۔ جہنم کے دروازے بند کر دئے جاتے ہیں اور روزہ بدی کے راستوں کی رکاوٹ بن جاتا ہے۔ شیطان کو زنجیروں میں جکڑ دیا جاتا ہے اور برائی پھیلانے کے مواقع کم سے کم ہو جاتے ہیں۔
۔(بخاری ، مسلم ؛ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ)۔
٭ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے ؛
جو شخص رمضان المبارک میں روزے رکھے اس کے سارے اگلے پچھلے گناہ بخش دئے جائیں گے۔ اور جو شخص راتوں میں نماز کے لئے کھڑا رہے ، اس کے بھی گناہ بخش دئے جائیں گے اور وہ ، جو شبِ قدر میں قیام کرے ، اس کے بھی۔ بس شرط یہ ہے کہ وہ اپنے رب کی باتوں اور وعدوں کو سچا جانے ، اپنے عہدِ بندگی کو وفاداری بشرطِ استواری کے ساتھ نباہے اور خود آگہی و خود احتسابی سے غافل نہ ہو۔
۔(بخاری ، مسلم ؛ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ)۔
Subscribe to:
Posts (Atom)
بلاگ تعارف
رمضان ایک مبارک مہینہ ہے۔
اس مہینے کے دامن میں وہ بیش بہا رات ہے ، جو ہزاروں مہینوں سے بڑھ کر خیر و برکت والی ہے۔
اسی رات میں ہمارے رب نے اپنی سب سے بڑی رحمت ہمارے اوپر نازل فرمائی۔
مضامین
موضوعات
- بخاری احادیث - (1)
- رمضان - (4)
- روزہ - (3)
- ریفریشر کورس - (1)
