Saturday, August 21, 2010 | 10:04 AM

رمضان میں احتساب ۔۔۔!

|

مسلم معاشرے میں کئی طرح کے افراد پائے جا رہے ہیں۔ کچھ وہ ہیں جو حقیقتِ اسلام سے اچھی طرح آگاہ ہیں۔ رمضان کی اہمیت و فضیلت کو سمجھتے ہیں اور روزے اسی مثالی طریقے سے رکھتے ہیں جو ان کی روح ہےاور الحمدللہ اس کے فوائد سمیٹتے ہیں۔ یہ اسلامی معاشرے کی کریم ہیں مگر قلیل ہیں۔
لیکن اکثریت ایسے مسلمانوں کی ہے جو رمضان میں روزے کا اہتمام تو کرتے ہیں لیکن اس کی روح سے ناآشنا ہیں اور فرمانِ رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کے مطابق بھوک اور پیاس کے سوا کچھ بھی حاصل نہیں کر سکتے ۔۔۔۔ نہ رب کی رضا ، نہ تربیت ، نہ جنت ، نہ بےحد و حساب اجر ، نہ گناہوں کی معافی !
بھلا کیوں ؟

فرمانِ نبئ رحمت صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ ۔۔۔
من صام رمضان إيمانا واحتسابا، غفر له ما تقدم من ذنبه ... من قام رمضان إيمانا واحتسابا، غفر له ما تقدم من ذنبه ...
جس نے ایمان اور احتساب کے ساتھ رمضان کے روزے رکھے تو اس کے وہ سب گناہ معاف کر دئے جائیں گے جو اس سے پہلے سرزد ہوئے ہوں گے اور جس نے ایمان اور احتساب کے ساتھ رمضان میں قیام کیا تو اس کے وہ قصور معاف کر دئے جائیں گے جو اس نے پہلے کئے ہوں گے۔

صحیح بخاری ، صحیح مسلم

  • روزہ رکھا ، جھوٹ نہ چھوڑا اور جھوٹی قسمیں کھا کھا کر مال بیچا
  • رمضان آیا تو مال کی قیمت بڑھا دی
  • ناجائز منافع خوری شروع کر دی کہ عید آ رہی ہے خرچ بڑھ جائے گا
  • دودھ میں پانی ملا دیا
  • اچھا دکھا کر گلا سڑا پھل تھیلے میں ڈال کر دے دیا
  • ملازمت کے اوقات میں ڈنڈی ماری یعنی دیر سے آئے اور جلدی گھر چلے گئے اور روزے رکھ کر خیانت کے مرتکب ہو گئے
  • پولیس والوں نے ٹریفک کے ناکے زیادہ کر دئے ، رشوت کے ریٹ بڑھا دئے ، رمضان میں عیدی جو بنانی ہے

یہ اور اس طرح کے سارے افعال جھوٹ کی قسمیں ہیں اور روزے کے اجر کو چاٹ جانے والی ہیں۔
سیر بھر اجر کمایا ، من بھر گناہ کر لئے۔
اس لیے روزے رکھ کر "احتساب" ضروری ہے کہ اجر حاصل ہو رہا ہے یا ضائع ہو رہا ہے؟
اور یہ "احتساب" ہر طبقۂ زندگی کے افراد کے لیے ضروری ہے۔ عورت ہو یا مرد ، استاد ہوں یا علماء ، تاجر ہوں یا ڈاکٹر ، حکومتی اہلکار ، عدلیہ ، سیاستداں ، کسان یا مزدور ۔۔۔ سب اپنے اپنے کام اور اپنی اپنی دیانتداری پر نظر ڈالیں اور جائزہ لیں کہ :
روزہ کتنا درست روزہ ہے؟

جس کے روزے کے ساتھ جتنا احتساب اور محنت ہوگی ان شاءاللہ اتنا ہی وزنی روزہ ہوگا ، میزانِ عمل کو بھاری کر دے گا۔
اسی طرح قیام اللیل کے ساتھ بھی "احتساب" کی شرط لگائی گئی ہے۔

Tuesday, August 17, 2010 | 2:39 PM

ریفریشر کورس ۔۔۔

ماہِ رمضان المبارک
کی ہر سال آمد بھی ربِ کائینات کا ایک احسانِ عظیم ہے، کیونکہ دید و شنید کی باتیں اور آموختہ سبق کو بھول جانا انسانی فطرت کا خاصہ ہے۔
جیسا کہ معروف ہے :
الانسان مركب من الخطا و النسیان
(انسان خطا و بھول سے مرکب ہے)

اور گاہے بگاہے انسانوں کو یاددہانی کی ضرورت رہتی ہے۔ جیسے سرکاری تعلیمی اداروں کو بھی کبھی کبھی ایک مختصر سا کورس کرایا جاتا ہے تاکہ ان کی خوابیدہ تدریسی صلاحیتوں کو جِلا دی جائے اور وہ پھر سے تندہی کے ساتھ تدریسی فرائض اور خدمات انجام دینے لگیں۔
اس کورس کو ہی " ریفریشر کورس" کہا جاتا ہے۔

بالکل اسی طرح سال کے 11 مہینوں میں مسلمان کی عملی قوتوں میں آہستہ آہستہ ضعف و کمزوری در آتی ہے تو اتنے میں اللہ کی کرم گستریوں اور عنایتوں کا مہینہ "رمضان المبارک" پھر آ جاتا ہے جو روزہ داروں کے لیے اخلاقی و روحانی تربیت گاہ یا ریفریشر کورس کا کام کرتا ہے ، ان کی عملی کمزوریوں اور کوتاہیوں کا ازالہ کرتا ہے اور انہیں پھر سے نئے جوش اور جذبۂ اطاعت کے ساتھ میدانِ عمل میں لا کھڑا کرتا ہے۔

اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس ماہِ مبارک کی سعادتوں سے بہرہ ور ہونے اور اپنے اعمال کی اصلاح کرنے کی توفیق سے نوازے ، آمین۔

اقتباس : روشنی سپلیمنٹ ، اردو نیوز ، سعودی عرب : جمعہ 13/اگست/2010ء

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

ابن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا
میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ
إذا رأيتموه فصوموا، وإذا رأيتموه فأفطروا، فإن غم عليكم فاقدروا له
جب رمضان کا چاند دیکھو تو روزہ شروع کر دو اور جب شوال کا چاند دیکھو تو روزہ افطار کر دو اور اگر ابر ہو تو اندازہ سے کام کرو (یعنی تیس روزے پورے کر لو‫)
عقیل اور یونس نے بیان کیا کہ "رمضان کا چاند" مراد ہے۔
صحيح بخاري ، كتاب الصوم ، باب : هل يقال رمضان او شهر رمضان ومن راى كله واسعا ، حدیث : 1934
===
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کا ذکر کیا تو فرمایا کہ ‫:
لا تصوموا حتى تروا الهلال، ولا تفطروا حتى تروه، فإن غم عليكم فاقدروا له
جب تک چاند نہ دیکھو روزہ شروع نہ کرو ، اسی طرح جب تک چاند نہ دیکھ لو روزہ موقوف نہ کرو اور اگر ابر چھا جائے تو اندازہ سے کام کرو (یعنی تیس روزے پورے کر لو)۔
صحيح بخاري ، كتاب الصوم ، باب : قول النبي صلى الله عليه وسلم ‏"‏ اذا رايتم الهلال فصوموا واذا رايتموه فافطروا ‏" ، حدیث : 1940
===
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ‫:
الشهر تسع وعشرون ليلة، فلا تصوموا حتى تروه، فإن غم عليكم فأكملوا العدة ثلاثين
مہینہ کبھی انتیس راتوں کا بھی ہوتا ہے اس لیے (انتیس پورے ہو جانے پر) جب تک چاند نہ دیکھ لو روزہ نہ شروع کرو اور اگر ابر ہو جائے تو تیس دن کا شمار پورا کر لو۔
صحيح بخاري ، كتاب الصوم ، باب : قول النبي صلى الله عليه وسلم ‏"‏ اذا رايتم الهلال فصوموا واذا رايتموه فافطروا ‏" ، حدیث : 1941
===
ابن عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ‫:
‏"‏ الشهر هكذا وهكذا ‏"‏‏.‏
مہینہ اتنے دنوں اور اتنے دنوں کا ہوتا ہے۔
‫( وخنس الإبهام في الثالثة‏ ) تیسری مرتبہ کہتے ہوئے آپ نے انگوٹھے کو دبا لیا۔
صحيح بخاري ، كتاب الصوم ، باب : قول النبي صلى الله عليه وسلم ‏"‏ اذا رايتم الهلال فصوموا واذا رايتموه فافطروا ‏" ، حدیث : 1942
===
ابوھریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ‫:
صوموا لرؤيته، وأفطروا لرؤيته، فإن غبي عليكم فأكملوا عدة شعبان ثلاثين
چاند ہی دیکھ کر روزے شروع کرو اور چاند ہی دیکھ کر روزہ موقوف کرو اور اگر ابر ہو جائے تو تیس دن پورے پورے کر لو۔
صحيح بخاري ، كتاب الصوم ، باب : قول النبي صلى الله عليه وسلم ‏"‏ اذا رايتم الهلال فصوموا واذا رايتموه فافطروا ‏" ، حدیث : 1943

Monday, September 01, 2008 | 9:54 AM

روزہ اور رمضان

|

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
روزہ شعبان سن 2 ھجری میں فرض کیا گیا
تاریخ میں سب سے پہلا روزہ مسلمانوں نے یکم رمضان 2ھ بمطابق 26۔فبروری۔624ء بروز اتوار کو رکھا
رمضان ، رمض سے مشتق ہے جس کے معنی شدتِ حرارت کے ہیں۔
رمضان کی وجہ تسمیہ میں کافی اقوال ہیں لیکن سب کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ مہینہ سخت گرمی میں پڑا تھا یا روزہ جب فرض کیا گیا اس وقت گرمی کے دن تھے لہذا اس گرم مہینے کا نام "رمضان" رکھا گیا۔
عربی مہینوں کے نام وقت اور موسم کے لحاظ سے رکھے جاتے تھے۔
نام رکھنے میں سب سے ماہر قریش کے سردار اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) کے پانچویں دادا "کلاب بن مره" کا نام مشہور ہے۔

رمضان کی برکت اور معنویت کے لحاظ سے اس کے 60 سے زیادہ نام ہیں، جن میں سے چند یوں ہیں ‫:
ماہ قرآن
ماہ رحمت
بخشش کا مہینہ
جہنم سے چھٹکارہ دینے والا
اللہ کا مہینہ
نعمتوں کا مہینہ
ماہ نجات
صبر ، غمخواری ، بھلائی ، برکات و خیرات کا مہینہ
قبولیت دعا اور لغزش کم کرنے والا مہینہ
ماہ فیضان
نیکیاں بڑھانے والا
ماہ توبہ
کرم و عنایت کا مہینہ
احسان کا مہینہ
رجوع الی اللہ کا مہینہ

Wednesday, October 11, 2006 | 3:39 PM

افطار کے مسائل

|

وقت سے پہلے افطار

جو شخص رمضان کے مہینے میں روزہ رکھ کر کسی شرعی عذر کے بغیر قبل از وقت روزہ توڑ دے تو یہ بڑ ا سنگین جرم ہے، اور اس کی سزا بھی بڑی عبرت ناک ہے ۔

ایک حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے ؛
میں نے خواب میں دیکھا کہ میرا گزر ایسے لوگوں کے پاس سے ہوا جو اُلٹے لٹکائے گئے تھے ، اُن کے جبڑے پھٹے ہوئے تھے اور اُن سے خون رس رہا تھا ۔ میں نے پوچھا کہ یہ کون لوگ ہیں ؟
مجھے بتایا گیا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو وقت سے پہلے روزہ افطار کر لیا کرتے تھے ۔ یعنی افطاری سے پہلے ہی روزہ توڑ لیا کرتے تھے ۔
۔(صحیح ابن خزیمہ / صحیح ابن حبان)۔

اس کے علاوہ ، کسی شرعی عذر کے بغیر عمداً روزہ توڑ دینے کی دنیاوی سزا بھی شریعت نے سخت رکھی ہے کہ ایسے شخص کو قضا کے ساتھ کفارہ میں لگاتار ساٹھ دن کے روزے رکھنا ضروری قرار دیا گیا ۔


===

افطار میں تاخیر ۔۔۔ خلافِ سنت ہے ۔

امت مسلمہ کو اس بات کی خوش خبری دی گئی ہے کہ وہ جب تک روزہ افطار کرنے میں جلدی (مغرب کی اذاں کے ساتھ ہی روزہ افطار) کریں گے ، خیریت سے رہیں گے ۔
حضرت سہل بن سعد (رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ؛
اس وقت تک لوگ خیر و عافیت سے رہیں گے جب تک وہ روزہ افطار کرنے میں جلدی کریں گے ۔
۔(بخاری، مسلم ، جامع ترمذی ، سنن ابی نسائی)۔

روزہ جلدی افطار کرنا اس بات کی علامت ہے کہ دین کی بالادستی قائم ہے ۔ کیونکہ روزہ کا دیر سے افطار کرنا یہودیوں اور نصاریٰ کے ہاں رائج ہے ۔

حضرت ابو ہریرہ (رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ؛
دین اسلام اس وقت تک بلند رہے گا جب تک لوگ روزہ افطار کرنے میں جلدی کریں گے ، کیونکہ یہودی اور نصاریٰ (اپنے مذہب کے مطابق) دیر سے روزہ افطار کرتے ہیں۔
۔(مسند احمد ، جامع ترمذی ، سنن ابن ماجہ)۔

لہذا ہر مسلمان پر فرض ہے کہ وہ ہر بات میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرے ۔
سحری اور افطاری میں سنت نبوی یہ ہے کہ سحری دیر سے تناول کی جائے جبکہ روزہ افطار کرنے میں جلدی کی جائے۔

امام نسائی (رحمہ اللہ) ، حضرت ابو عطیہ (رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ
انہوں نے حضرت عائشہ (رضی اللہ عنہ) سے سوال کیا کہ ہم میں دو آدمی ایسے ہیں جن میں سے ایک روزہ افطار کرنے میں جلدی اور سحری کرنے میں تاخیر کرتا ہے ۔۔۔ جبکہ دوسرا شخص روزہ افطار کرنے میں تاخیر اور سحری کرنے میں جلدی کرتا ہے ؟ حضرت عائشہ (رض) جواب میں فرماتی ہیں ؛
جو شخص روزہ افطار کرنے میں جلدی اور سحری کرنے میں تاخیر کرتا ہے ، وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے پر عمل کرتا ہے ۔

Subscribe