وقت سے پہلے افطار
جو شخص رمضان کے مہینے میں روزہ رکھ کر کسی شرعی عذر کے بغیر قبل از وقت روزہ توڑ دے تو یہ بڑ ا سنگین جرم ہے، اور اس کی سزا بھی بڑی عبرت ناک ہے ۔
ایک حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے ؛
میں نے خواب میں دیکھا کہ میرا گزر ایسے لوگوں کے پاس سے ہوا جو اُلٹے لٹکائے گئے تھے ، اُن کے جبڑے پھٹے ہوئے تھے اور اُن سے خون رس رہا تھا ۔ میں نے پوچھا کہ یہ کون لوگ ہیں ؟
مجھے بتایا گیا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو وقت سے پہلے روزہ افطار کر لیا کرتے تھے ۔ یعنی افطاری سے پہلے ہی روزہ توڑ لیا کرتے تھے ۔
۔(صحیح ابن خزیمہ / صحیح ابن حبان)۔
اس کے علاوہ ، کسی شرعی عذر کے بغیر عمداً روزہ توڑ دینے کی دنیاوی سزا بھی شریعت نے سخت رکھی ہے کہ ایسے شخص کو قضا کے ساتھ کفارہ میں لگاتار ساٹھ دن کے روزے رکھنا ضروری قرار دیا گیا ۔
===
افطار میں تاخیر ۔۔۔ خلافِ سنت ہے ۔
امت مسلمہ کو اس بات کی خوش خبری دی گئی ہے کہ وہ جب تک روزہ افطار کرنے میں جلدی (مغرب کی اذاں کے ساتھ ہی روزہ افطار) کریں گے ، خیریت سے رہیں گے ۔
حضرت سہل بن سعد (رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ؛
اس وقت تک لوگ خیر و عافیت سے رہیں گے جب تک وہ روزہ افطار کرنے میں جلدی کریں گے ۔
۔(بخاری، مسلم ، جامع ترمذی ، سنن ابی نسائی)۔
روزہ جلدی افطار کرنا اس بات کی علامت ہے کہ دین کی بالادستی قائم ہے ۔ کیونکہ روزہ کا دیر سے افطار کرنا یہودیوں اور نصاریٰ کے ہاں رائج ہے ۔
حضرت ابو ہریرہ (رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ؛
دین اسلام اس وقت تک بلند رہے گا جب تک لوگ روزہ افطار کرنے میں جلدی کریں گے ، کیونکہ یہودی اور نصاریٰ (اپنے مذہب کے مطابق) دیر سے روزہ افطار کرتے ہیں۔
۔(مسند احمد ، جامع ترمذی ، سنن ابن ماجہ)۔
لہذا ہر مسلمان پر فرض ہے کہ وہ ہر بات میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرے ۔
سحری اور افطاری میں سنت نبوی یہ ہے کہ سحری دیر سے تناول کی جائے جبکہ روزہ افطار کرنے میں جلدی کی جائے۔
امام نسائی (رحمہ اللہ) ، حضرت ابو عطیہ (رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ
انہوں نے حضرت عائشہ (رضی اللہ عنہ) سے سوال کیا کہ ہم میں دو آدمی ایسے ہیں جن میں سے ایک روزہ افطار کرنے میں جلدی اور سحری کرنے میں تاخیر کرتا ہے ۔۔۔ جبکہ دوسرا شخص روزہ افطار کرنے میں تاخیر اور سحری کرنے میں جلدی کرتا ہے ؟ حضرت عائشہ (رض) جواب میں فرماتی ہیں ؛
جو شخص روزہ افطار کرنے میں جلدی اور سحری کرنے میں تاخیر کرتا ہے ، وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے پر عمل کرتا ہے ۔
رمضان کا روزہ ، اسلام کے پانچ بنیادی ارکان میں سے اہم رکن ہے ۔
جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے ؛
اے ایمان والو ، تم پر روزے رکھنا فرض کیا گیا ہے جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے ، تاکہ تم تقویٰ اختیار کرو ۔
۔(سورۃ البقرۃ : ١٨٣ )۔
اگر کوئی شخص رمضان کے روزوں کی فرضیت کا انکار کر کے اسے ترک کر دیتا ہے تو اسلام کے ایک رکن کا منکر ہونے کے باعث وہ کافر ہو جائے گا ۔
اور جو شخص سستی اور کاہلی سے رمضان کے روزے نہیں رکھتا مگر اس کی فرضیت کو تسلیم کرتا ہے تو وہ گناہِ کبیرہ کا مرتکب گردانا جائے گا اور سخت وعید کا مستحق ہوگا ۔
مسلمانوں کو چاہئے کے کسی شرعی عذر کے بغیر رمضان کا کوئی بھی روزہ ہرگز ہرگز نہ چھوڑیں بلکہ تمام روزوں کا اہتمام کر کے خود کو اللہ تعالیٰ کی مغفرت و بخشش کا مستحق قرار دیں ۔
حضرت ابو ہریرہ (رضی اللہ عنہ) سے مرفوعاً روایت ہے ؛
جو شخص رمضان میں ایک دن بھی (کسی بیماری یا کسی شرعی عذر کے بغیر) روزہ نہیں رکھے گا ۔۔۔ تو اگر وہ پورے زمانے روزہ رکھتا رہے تب بھی اس کی تلافی نہیں ہو سکتی ۔
۔( بخاری شریف ، ١ / ٢٥٩ )۔
روزہ ، اللہ تعالی کی انعام کردہ نمعتوں کا شکرادا کرنے کا وسیلہ ہے ، روزہ کھانا پینا ترک کرنے کا نام ہے اورکھانا پینا ایک بہت بڑی نعمت ہے ، لہذا اس سے کچھ دیر کےلیے رک جانا کھانے پینے کی قدروقیمت معلوم کراتا ہے ، کیونکہ مجہول نمعتیں جب گم ہوں تو وہ معلوم ہوجاتی ہیں ، یہ سب کچھ اس کے شکر کرنے پر ابھارتا ہے ۔
روزہ ، حرام کردہ اشیاء کو ترک کرنے کا وسیلہ ہے ، کیونکہ جب نفس اللہ تعالی کی رضامندی کےلیے اللہ تعالی کے عذاب سے ڈرتا ہوا کسی حلال چيز سے رکنے پر تیار ہوجاتا ہے تووہ حرام کردہ اشیاء کو ترک کرنے پر بالاولٰی تیار ہوگا ، لہذا اللہ تعالی کے حرام کردہ کاموں میں روزہ بچاؤ کا سبب بنتا ہے ۔
روزہ ، مساکین پر رحمت ، مہربانی اورنرمی کرنے کا باعث ہے ، اس لیے کہ جب روزہ دار کچھ وقت کے لیے بھوکا رہتا ہے تو پھر اسے اُس شخص کی حالت یاد آتی ہے جسے ہروقت ہی کھانا نصیب نہيں ہوتا ، تو وہ اس پرمہربانی اور رحم اور احسان کرنے پر ابھارتا ہے ، لہذا روزہ مساکین پر مہربانی کا باعث ہے ۔
روزے میں شیطان کے لیے غم وغصہ اورقہر اوراس کی کمزوری ہے ، اوراس کے وسوسے بھی کمزور ہوجاتے ہیں جس کی بنا پر انسان معاصی اورجرائم بھی کم کرنے لگتا ہے ، اس کا سبب یہ ہےکہ جیسا کہ حدیث میں بھی وارد ہے کہ شیطان انسان میں خون کی طرح گردش کرتا ہے ، تو روزے کی بناپر اس کی یہ گردش والی جگہیں تنگ پڑ جاتی ہیں جس سے وہ کمزور ہوجاتا ہے اوراس کے نتیجے میں شیطان کا نفوذ بھی کمزور پڑجاتاہے ۔
شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ علیہ نے فرمایا ہے ؛
بلاشبہ کھانے پینے کی وجہ سے خون پیدا ہوتا ہے ، اس لیے جب کھایا پیا جائے تو شیطان کی گردش کی جگہوں میں وسعت پیدا ہوجاتی ہے جوکہ خون ہے اورجب روزہ رکھا جائے تو شیطان کی گردش والی جگہیں تنگ ہوجاتی ہيں ، جس کی بنا پر دل اچھائي اوربھلائي کے کاموں پر آمادہ ہوتا اوربرائي کے کام ترک کردیتا ہے ۔
بحوالہ ؛ مجموع الفتاوی ( جلد ؛ ٢٥ ، صفحہ ؛ ٢٤٦ ) ۔
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
اپنے دیگر مسلمان بھائی بہنوں كو روزہ ركھنے كى دعوت اور اس كى ترغيب دينا اور روزہ ركھنے ميں كوتاہى اور سستى كرنے سے ڈرانا ہم تمام مسلمانوں پر واجب ہے ۔
ہمیں چاہئے کہ
ان کو روزے کی فرضیت کے بارے میں بتائیں
اسلام ميں روزے كى عظمت اور مرتبہ اور اہميت ، ان کے علم میں لائیں ، كيونكہ روزہ اسلام كے بنيادى اركان ميں سے ايك ركن ہے جس پر اسلام قائم ہے ۔
روزہ كى فضيلت اور اس کے اجروثواب کے بارے میں انہیں بتايا جائے ۔
نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے ؛
جس نے ايمان اور اجروثواب كى نيت سے روزہ ركھا اس كے پہلے تمام گناہ معاف كر ديے جاتے ہيں
صحيح بخارى حديث نمبر ( ٣٨ ) اور صحيح مسلم حديث نمبر ( ٧٦٠ ) ۔
اور رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے ؛
جو شخص اللہ تعالى اور اس كے رسول صلى اللہ عليہ وسلم پر ايمان لايا اور نماز ادا كى اور زكاۃ ديتا رہا اور رمضان المبارك كے روزہ ركھے اللہ تعالى پر حق ہے كہ اسے جنت ميں داخل كرے ، وہ اللہ تعالى كى راہ ميں جہاد كرے يا اس زمين ميں جہاں پيدا ہوا بيٹھا رہے
صحابہ كرام نے عرض كيا ؛
اے اللہ تعالى كے رسول صلى اللہ عليہ وسلم كيا ہم لوگوں كو خوشخبرى نہ دے ديں ؟
تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا ؛
جنت ميں سو مرتبے ہيں جو اللہ تعالى نے اللہ كى راہ ميں جہاد كرنے والے مجاہدين كے ليے تيار كيے ہيں، دو درجوں اور مرتبوں كے درميان آسمان و زمين جتنا فاصلہ ہے، جب تم اللہ تعالى سے سوال كرو تو جنت الفردوس كا سوال كرو، كيونكہ وہ جنت كا درميان اور اونچا ترين درجہ ہے، اس كے اوپر رحمن كا عرش ہے، اور اس سے جنت كى نہريں جارى ہوتى ہيں
صحيح بخارى حديث نمبر ( ٧٤٢٣ )۔
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
جس شخص میں بھی پانچ شرطیں پائي جائيں اس پر روزے فرض ہیں ؛
وہ شخص مسلمان ہو ۔
مکلف ہو ۔ (یعنی ؛ عاقل و بالغ ہو ، بچہ یا پاگل نہ ہو)۔
روزہ رکھنے پرقادر ہو ۔ (یعنی ؛ جو روزہ رکھنے کی طاقت رکھتا ہو)۔
مقیم ہو ۔ (یعنی ؛ مسافر کے لیے روزہ رکھنا واجب نہیں)۔
اس میں کوئي مانع نہ پایا جائے ۔ (یعنی ؛ عورت کی خاص حالتیں جیسے حیض و نفاس میں روزہ لازم نہیں بلکہ بعد میں ان کی قضاء ہے)۔
اللہ سبحانہ وتعالی نے مسلمانوں پر روزوں کو فرض اورمشروع کرتے ہوئے اس کی حکمت کا بھی ذکر کیا ہے جس کا بیان مندرجہ ذیل آیت میں ہے ؛
اے ایمان والو ، تم پر روزے رکھنے فرض کیے گئے ہیں جس طرح کہ تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے تا کہ تم تقوی اختیار کرو ۔
البقرۃ ( ١٨٣ ) ۔
لہذا روزہ تقوی وپرہیزگاری کا وسیلہ ہے ، اورتقوی اختیارکرنے کا حکم اللہ تعالی نے دیا ہے اورجوچيز اس سے روکے اس کے فعل سےبھی روکا ہے ، اور روزہ ایک ایسا سبب ہے جس سے بندہ دینی اوامر میں مدد حاصل کرتا ہے ۔
علماء رحمہ اللہ تعالی نے روزے کی مشروعیت کی بعض حکمتوں کا ذکر کیا ہے جوسب کی سب تقوی و پرہيزگاری کی خصلتیں ہیں ، لیکن انہیں ذکر کرنے میں کوئي حرج نہیں تا کہ روزے دار متنبہ رہے اور اسے حاصل کرنے کی کوشش کرے ۔
روزوں کی بعض حکمتیں ؛
روزہ اللہ تعالی کی انعام کردہ نمعتوں کا شکرادا کرنے کا وسیلہ ہے ، روزہ کھانا پینا ترک کرنے کا نام ہے اورکھانا پینا ایک بہت بڑی نعمت ہے ، لھذا اس سے کچھ دیر کےلیے رک جانا کھانے پینے کی قدروقیمت معلوم کراتا ہے ، کیونکہ مجھول نمعتیں جب گم ہوں تو وہ معلوم ہوجاتی ہیں ، یہ سب کچھ اس کے شکر کرنے پر ابھارتا ہے ۔
روزہ حرام کردہ اشیاء کو ترک کرنے کا وسیلہ ہے ، کیونکہ جب نفس اللہ تعالی کی رضامندی کےلیے اللہ تعالی کے عذاب سے ڈرتا ہوا کسی حلال چيز سے رکنے پر تیار ہوجاتا ہے تووہ حرام کردہ اشیاء کو ترک کرنے پر بالاولی تیار ہوگا ، لھذا اللہ تعالی کے حرام کردہ کاموں روزہ بچاؤ کا سبب بنتا ہے ۔
روزہ مساکین پر رحمت مہربانی اورنرمی کرنے کا باعث ہے ، اس لیے کہ جب روزہ دارکچھ وقت کے لیے بھوکا رہتا ہے توپھر اسے اس شخص کی حالت یاد آتی ہے جسے ہروقت ہی کھانا نصیب نہيں ہوتا ، تووہ اس پرمہربانی اوررحم اوراحسان کرنے پرابھارتا ہے ، لھذا روزہ مساکین پر مہربانی کا باعث ہے ۔
روزے میں شیطان کے لیے غم وغصہ اورقہر اوراس کی کمزوری ہے ، اوراس کے وسوسے بھی کمزور ہوجاتے ہیں جس کی بنا پر انسان معاصی اورجرائم بھی کم کرنے لگتا ہے ، اس کا سبب یہ ہےکہ جیسا کہ حدیث میں بھی وارد ہے کہ شیطان انسان میں خون کی طرح گردش کرتا ہے ، توروزے کی بناپر اس کی یہ گردش والی جگہیں تنگ پڑجاتی ہیں جس سے وہ کمزور ہوجاتا ہے اوراس کے نتیجے میں شیطان کا نفوذ بھی کمزور پڑجاتاہے ۔
شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ تعالی نے فرمایا ہے ؛
بلاشبہ کھانے پینے کی وجہ سے خون پیدا ہوتا ہے ، اس لیے جب کھایا پیا جائے تو شیطان کی گردش کی جگہوں میں وسعت پیدا ہوجاتی ہے جوکہ خون ہے اورجب روزہ رکھا جائے تو شیطان کی گردش والی جگہیں تنگ ہوجاتی ہيں ، جس کی بنا پر دل اچھائي اوربھلائي کے کاموں پر آمادہ ہوتا اوربرائي کے کام ترک کردیتا ہے ۔
بحوالہ ؛ مجموع الفتاوی ( جلد ؛ ٢٥ ، صفحہ ؛ ٢٤٦ ) ۔
بلاگ تعارف
موضوعات
- بخاری احادیث - (1)
- رمضان - (4)
- روزہ - (3)
- ریفریشر کورس - (1)
