بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

ابن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا
میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ
إذا رأيتموه فصوموا، وإذا رأيتموه فأفطروا، فإن غم عليكم فاقدروا له
جب رمضان کا چاند دیکھو تو روزہ شروع کر دو اور جب شوال کا چاند دیکھو تو روزہ افطار کر دو اور اگر ابر ہو تو اندازہ سے کام کرو (یعنی تیس روزے پورے کر لو‫)
عقیل اور یونس نے بیان کیا کہ "رمضان کا چاند" مراد ہے۔
صحيح بخاري ، كتاب الصوم ، باب : هل يقال رمضان او شهر رمضان ومن راى كله واسعا ، حدیث : 1934
===
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کا ذکر کیا تو فرمایا کہ ‫:
لا تصوموا حتى تروا الهلال، ولا تفطروا حتى تروه، فإن غم عليكم فاقدروا له
جب تک چاند نہ دیکھو روزہ شروع نہ کرو ، اسی طرح جب تک چاند نہ دیکھ لو روزہ موقوف نہ کرو اور اگر ابر چھا جائے تو اندازہ سے کام کرو (یعنی تیس روزے پورے کر لو)۔
صحيح بخاري ، كتاب الصوم ، باب : قول النبي صلى الله عليه وسلم ‏"‏ اذا رايتم الهلال فصوموا واذا رايتموه فافطروا ‏" ، حدیث : 1940
===
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ‫:
الشهر تسع وعشرون ليلة، فلا تصوموا حتى تروه، فإن غم عليكم فأكملوا العدة ثلاثين
مہینہ کبھی انتیس راتوں کا بھی ہوتا ہے اس لیے (انتیس پورے ہو جانے پر) جب تک چاند نہ دیکھ لو روزہ نہ شروع کرو اور اگر ابر ہو جائے تو تیس دن کا شمار پورا کر لو۔
صحيح بخاري ، كتاب الصوم ، باب : قول النبي صلى الله عليه وسلم ‏"‏ اذا رايتم الهلال فصوموا واذا رايتموه فافطروا ‏" ، حدیث : 1941
===
ابن عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ‫:
‏"‏ الشهر هكذا وهكذا ‏"‏‏.‏
مہینہ اتنے دنوں اور اتنے دنوں کا ہوتا ہے۔
‫( وخنس الإبهام في الثالثة‏ ) تیسری مرتبہ کہتے ہوئے آپ نے انگوٹھے کو دبا لیا۔
صحيح بخاري ، كتاب الصوم ، باب : قول النبي صلى الله عليه وسلم ‏"‏ اذا رايتم الهلال فصوموا واذا رايتموه فافطروا ‏" ، حدیث : 1942
===
ابوھریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ‫:
صوموا لرؤيته، وأفطروا لرؤيته، فإن غبي عليكم فأكملوا عدة شعبان ثلاثين
چاند ہی دیکھ کر روزے شروع کرو اور چاند ہی دیکھ کر روزہ موقوف کرو اور اگر ابر ہو جائے تو تیس دن پورے پورے کر لو۔
صحيح بخاري ، كتاب الصوم ، باب : قول النبي صلى الله عليه وسلم ‏"‏ اذا رايتم الهلال فصوموا واذا رايتموه فافطروا ‏" ، حدیث : 1943

Monday, September 01, 2008 | 9:54 AM

روزہ اور رمضان

|

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
روزہ شعبان سن 2 ھجری میں فرض کیا گیا
تاریخ میں سب سے پہلا روزہ مسلمانوں نے یکم رمضان 2ھ بمطابق 26۔فبروری۔624ء بروز اتوار کو رکھا
رمضان ، رمض سے مشتق ہے جس کے معنی شدتِ حرارت کے ہیں۔
رمضان کی وجہ تسمیہ میں کافی اقوال ہیں لیکن سب کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ مہینہ سخت گرمی میں پڑا تھا یا روزہ جب فرض کیا گیا اس وقت گرمی کے دن تھے لہذا اس گرم مہینے کا نام "رمضان" رکھا گیا۔
عربی مہینوں کے نام وقت اور موسم کے لحاظ سے رکھے جاتے تھے۔
نام رکھنے میں سب سے ماہر قریش کے سردار اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) کے پانچویں دادا "کلاب بن مره" کا نام مشہور ہے۔

رمضان کی برکت اور معنویت کے لحاظ سے اس کے 60 سے زیادہ نام ہیں، جن میں سے چند یوں ہیں ‫:
ماہ قرآن
ماہ رحمت
بخشش کا مہینہ
جہنم سے چھٹکارہ دینے والا
اللہ کا مہینہ
نعمتوں کا مہینہ
ماہ نجات
صبر ، غمخواری ، بھلائی ، برکات و خیرات کا مہینہ
قبولیت دعا اور لغزش کم کرنے والا مہینہ
ماہ فیضان
نیکیاں بڑھانے والا
ماہ توبہ
کرم و عنایت کا مہینہ
احسان کا مہینہ
رجوع الی اللہ کا مہینہ

Subscribe