رمضان کا روزہ ، اسلام کے پانچ بنیادی ارکان میں سے اہم رکن ہے ۔
جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے ؛
اے ایمان والو ، تم پر روزے رکھنا فرض کیا گیا ہے جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے ، تاکہ تم تقویٰ اختیار کرو ۔
۔(سورۃ البقرۃ : ١٨٣ )۔
اگر کوئی شخص رمضان کے روزوں کی فرضیت کا انکار کر کے اسے ترک کر دیتا ہے تو اسلام کے ایک رکن کا منکر ہونے کے باعث وہ کافر ہو جائے گا ۔
اور جو شخص سستی اور کاہلی سے رمضان کے روزے نہیں رکھتا مگر اس کی فرضیت کو تسلیم کرتا ہے تو وہ گناہِ کبیرہ کا مرتکب گردانا جائے گا اور سخت وعید کا مستحق ہوگا ۔
مسلمانوں کو چاہئے کے کسی شرعی عذر کے بغیر رمضان کا کوئی بھی روزہ ہرگز ہرگز نہ چھوڑیں بلکہ تمام روزوں کا اہتمام کر کے خود کو اللہ تعالیٰ کی مغفرت و بخشش کا مستحق قرار دیں ۔
حضرت ابو ہریرہ (رضی اللہ عنہ) سے مرفوعاً روایت ہے ؛
جو شخص رمضان میں ایک دن بھی (کسی بیماری یا کسی شرعی عذر کے بغیر) روزہ نہیں رکھے گا ۔۔۔ تو اگر وہ پورے زمانے روزہ رکھتا رہے تب بھی اس کی تلافی نہیں ہو سکتی ۔
۔( بخاری شریف ، ١ / ٢٥٩ )۔
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
بلاگ تعارف
رمضان ایک مبارک مہینہ ہے۔
اس مہینے کے دامن میں وہ بیش بہا رات ہے ، جو ہزاروں مہینوں سے بڑھ کر خیر و برکت والی ہے۔
اسی رات میں ہمارے رب نے اپنی سب سے بڑی رحمت ہمارے اوپر نازل فرمائی۔
موضوعات
- بخاری احادیث - (1)
- رمضان - (4)
- روزہ - (3)
- ریفریشر کورس - (1)

0 comments:
Post a Comment