بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
جس شخص میں بھی پانچ شرطیں پائي جائيں اس پر روزے فرض ہیں ؛
وہ شخص مسلمان ہو ۔
مکلف ہو ۔ (یعنی ؛ عاقل و بالغ ہو ، بچہ یا پاگل نہ ہو)۔
روزہ رکھنے پرقادر ہو ۔ (یعنی ؛ جو روزہ رکھنے کی طاقت رکھتا ہو)۔
مقیم ہو ۔ (یعنی ؛ مسافر کے لیے روزہ رکھنا واجب نہیں)۔
اس میں کوئي مانع نہ پایا جائے ۔ (یعنی ؛ عورت کی خاص حالتیں جیسے حیض و نفاس میں روزہ لازم نہیں بلکہ بعد میں ان کی قضاء ہے)۔
اللہ سبحانہ وتعالی نے مسلمانوں پر روزوں کو فرض اورمشروع کرتے ہوئے اس کی حکمت کا بھی ذکر کیا ہے جس کا بیان مندرجہ ذیل آیت میں ہے ؛
اے ایمان والو ، تم پر روزے رکھنے فرض کیے گئے ہیں جس طرح کہ تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے تا کہ تم تقوی اختیار کرو ۔
البقرۃ ( ١٨٣ ) ۔
لہذا روزہ تقوی وپرہیزگاری کا وسیلہ ہے ، اورتقوی اختیارکرنے کا حکم اللہ تعالی نے دیا ہے اورجوچيز اس سے روکے اس کے فعل سےبھی روکا ہے ، اور روزہ ایک ایسا سبب ہے جس سے بندہ دینی اوامر میں مدد حاصل کرتا ہے ۔
علماء رحمہ اللہ تعالی نے روزے کی مشروعیت کی بعض حکمتوں کا ذکر کیا ہے جوسب کی سب تقوی و پرہيزگاری کی خصلتیں ہیں ، لیکن انہیں ذکر کرنے میں کوئي حرج نہیں تا کہ روزے دار متنبہ رہے اور اسے حاصل کرنے کی کوشش کرے ۔
روزوں کی بعض حکمتیں ؛
روزہ اللہ تعالی کی انعام کردہ نمعتوں کا شکرادا کرنے کا وسیلہ ہے ، روزہ کھانا پینا ترک کرنے کا نام ہے اورکھانا پینا ایک بہت بڑی نعمت ہے ، لھذا اس سے کچھ دیر کےلیے رک جانا کھانے پینے کی قدروقیمت معلوم کراتا ہے ، کیونکہ مجھول نمعتیں جب گم ہوں تو وہ معلوم ہوجاتی ہیں ، یہ سب کچھ اس کے شکر کرنے پر ابھارتا ہے ۔
روزہ حرام کردہ اشیاء کو ترک کرنے کا وسیلہ ہے ، کیونکہ جب نفس اللہ تعالی کی رضامندی کےلیے اللہ تعالی کے عذاب سے ڈرتا ہوا کسی حلال چيز سے رکنے پر تیار ہوجاتا ہے تووہ حرام کردہ اشیاء کو ترک کرنے پر بالاولی تیار ہوگا ، لھذا اللہ تعالی کے حرام کردہ کاموں روزہ بچاؤ کا سبب بنتا ہے ۔
روزہ مساکین پر رحمت مہربانی اورنرمی کرنے کا باعث ہے ، اس لیے کہ جب روزہ دارکچھ وقت کے لیے بھوکا رہتا ہے توپھر اسے اس شخص کی حالت یاد آتی ہے جسے ہروقت ہی کھانا نصیب نہيں ہوتا ، تووہ اس پرمہربانی اوررحم اوراحسان کرنے پرابھارتا ہے ، لھذا روزہ مساکین پر مہربانی کا باعث ہے ۔
روزے میں شیطان کے لیے غم وغصہ اورقہر اوراس کی کمزوری ہے ، اوراس کے وسوسے بھی کمزور ہوجاتے ہیں جس کی بنا پر انسان معاصی اورجرائم بھی کم کرنے لگتا ہے ، اس کا سبب یہ ہےکہ جیسا کہ حدیث میں بھی وارد ہے کہ شیطان انسان میں خون کی طرح گردش کرتا ہے ، توروزے کی بناپر اس کی یہ گردش والی جگہیں تنگ پڑجاتی ہیں جس سے وہ کمزور ہوجاتا ہے اوراس کے نتیجے میں شیطان کا نفوذ بھی کمزور پڑجاتاہے ۔
شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ تعالی نے فرمایا ہے ؛
بلاشبہ کھانے پینے کی وجہ سے خون پیدا ہوتا ہے ، اس لیے جب کھایا پیا جائے تو شیطان کی گردش کی جگہوں میں وسعت پیدا ہوجاتی ہے جوکہ خون ہے اورجب روزہ رکھا جائے تو شیطان کی گردش والی جگہیں تنگ ہوجاتی ہيں ، جس کی بنا پر دل اچھائي اوربھلائي کے کاموں پر آمادہ ہوتا اوربرائي کے کام ترک کردیتا ہے ۔
بحوالہ ؛ مجموع الفتاوی ( جلد ؛ ٢٥ ، صفحہ ؛ ٢٤٦ ) ۔
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
بلاگ تعارف
رمضان ایک مبارک مہینہ ہے۔
اس مہینے کے دامن میں وہ بیش بہا رات ہے ، جو ہزاروں مہینوں سے بڑھ کر خیر و برکت والی ہے۔
اسی رات میں ہمارے رب نے اپنی سب سے بڑی رحمت ہمارے اوپر نازل فرمائی۔
موضوعات
- بخاری احادیث - (1)
- رمضان - (4)
- روزہ - (3)
- ریفریشر کورس - (1)

0 comments:
Post a Comment